World-Bank 23

آئندہ عشرہ میں چین کی سالانہ ملکی قومی پیداوار کی شرح 6اور 6.5فیصد کے درمیان رہی ،عالمی بنک

لندن (آئی این پی/زنہوا) عالمی بنک (ڈبلیو بی ) نے کہا کہ 2017ء بھر میں چین کی پیداواری شرح نمو ٹھوس رہی اور اس کی پیداواری شرح نمو میں کمی پراچھی طرح قابوپالیا گیا۔عالمی بنک نے اپنی رپورٹ ’’عالمی اقتصادی امکانات ‘‘ نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ چین کی تجارتی نقل و حمل میں 2017 ء میں نمایاں بحالی ہوئی ،سرمایہ کی منتقلی پر قابو پانے کیلئے سخت اقدامات کی بدولت سرما یہ کی بیرون ملک منتقلی،شرح تبادلہ کے دبائو میںکمی اور غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی کے خاتمے میں مددملی ۔
اپنی تازہ ترین رپورٹ میں بنک کی پیشنگوئی کے مطابق 2017ء میں چین کی سالانہ اقتصادی شرح نمو 6.8فیصد رہی جو چھ ماہ قبل کی جانیوالی اس کی پیشنگوئی سے دو بنیادی پوائنٹس زیادہ ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈبلیو بی میں ترقیاتی امکانات گروپ کی منیجر فرانزسکا لائی سلوٹ اوہون سورج نے بتایا کہ اس وقت چین میں پیداواری شرح نمو میں کمی پر اچھی طرح قابو پالیا گیا ہے ،یہ انتہائی مستحکم بتدریج ہے اور حکام اس سے صحیح طورپر نمٹنے میں کامیاب رہے ہیں ۔
اوہون سورج جو کہ بینک کی رپورٹ کی نمایاں مصنفین میں شامل ہیں کہا کہ محفوظ ذخائر زیادہ ہیں ، سرکاری قرضے قابل گرفٹ ہیں خاص طورپر جدید ترقی یافتہ معیشتوں کے مقابلے میں ۔اوہون سورج نے کہا کہ اقتصادی استحکام کو لاحق خطرات سے نمٹاجارہا ہے ، حکام نے ہائوسنگ مارکیٹوں میں تیزی کمی اور مالیاتی قابل تسخیریت میں کمی کیلئے متعدد ریگولیٹری اقدامات کئے ہیں ۔انہوں نے پیشنگوئی کی کہ آئندہ دہائی میں چین کی سالانہ مجموعی ملکی پیداوار کی شرح 6اور 6.5فیصد کے درمیان رہی ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں