AIM by pw news 63

ماضی کی مقبول ’میسینجر‘ سروس بند کرنے کا اعلان

نیویارک : آن لائن سروس فراہم کرنے والی معروف امریکی کمپنی ’اے او ایل‘ نے ماضی میں مقبول اپنی آن لائن انسٹنٹ میسینجر سروس’ایم‘ کو رواں برس کے آخر تک بند کرنے کا اعلان کردیا۔
اے او ایل کا بنیاد 1985 میں رکھا گیا، جب کہ 1990 تک اس نے آن لائن میسینجر سروس ’ایم‘ متعارف کرائی، جو دیکھتے ہی دیکھتے دنیا کی مقبول ترین سروس بن گئی۔
اگرچہ جدید دور کی دیگر میسینجر سروسز اور ایپلی کیشن کے مقابلے ’ایم‘ میں کئی مشکل چیزیں تھیں، تاہم وہ 1990 سے 2000 تک سب سے ذیادہ استعمال ہونے والی سروس تھی۔
اے او ایل نے رواں برس مارچ میں ہی اپنی اس آن لائن میسینجر سروس کے کئی فیچرز بند کردیے تھے، جب کہ کمپنی نے میسیجنگ سروس میں کئی بہتریاں اور آسانیاں متعارف کراتے ہوئے اپنے صارفین کو مصروف رکھنے کی بھی کوشش کی۔
تاہم ماضی کی یہ میسینجر سروس نئی نسل کی توجہ حاصل کرنے میں ناکام رہی، اور اس کے صارفین میں مسلسل کمی ہوتی گئی۔

aim messenger service by pw news
aim messenger service by pw news

کمپنی نے اپنی بلاگ پوسٹ میں اعتراف کیا کہ نئی نسل اور جدید میسیجنگ سروسز کی وجہ سے ’ایم‘ صارفین میں مقبولیت برقرار رکھنے میں ناکام ہوگئی۔
کمپنی کے بلاگ پوسٹ میں ’ایم‘ کے پرانے زمانے کو بھی یاد دلانے کی کوشش کرتے ہوئے بتایا گیا کہ 1990 کی دہائی کے لاتعداد بچوں اور نوجوانوں نے اس سروس کو استعمال کرکے انجوائے کیا۔
بلاگ پوسٹ میں اعلان کیا گیا کہ ’ایم‘ میسیجنگ کی سروس رواں برس 15 دسمبر کو بند کردی جائے گی۔
کمپنی نے میسیجنگ سروس کو بند کرنے کا اعلان ٹوئٹر کے ذریعے بھی کیا۔
خیال رہے کہ فیس بک، انسٹاگرام، واٹس ایپ، اسنیپ چیٹ، میسینجر اور ٹوئٹر سمیت دیگر سوشل میسیجنگ ویب سائٹس اور ایپلی کیشن کے باعث ماضی کی میسجنگ سروسز کو اپنا معیار برقرار رکھنے میں شدید مشکلات درپیش ہیں۔
’ایم‘ سے قبل 2014 میں ایم ایس این میسینجر، جب کہ 2016 میں یاہو میسینجر کو بھی بند کردیا گیا۔
اگرچہ یاہو نے ایک نئی میسینجر سروس اسی نام سے ہی متعارف کرائی، تاہم وہ بھی ذیادہ صارفین کی توجہ حاصل کرنے میں ناکام رہی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں